Our History - سندھ دواخانہ

سندھ دواخانہ صرف ایک تجارتی نام نہیں ہے، بلکہ یہ شفاء، خالص پن اور انسانیت کی خدمت کا ایک ایسا تاریخی سفر ہے جو نسل در نسل ہمارے خاندان میں چلا آ رہا ہے۔ ہمارے ہاں حکمت صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ ہمارے بزرگوں کی دی ہوئی وہ امانت ہے جس کا مقصد خالص جڑی بوٹیوں کے ذریعے بیماریوں کا جڑ سے علاج کرنا ہے۔

ہمارے پر-پر دادا: حکیم محمد الٰہی بخش (حکمت کی شروعات)

ہمارے اس عظیم اور با-برکت سفر کا آغاز ہمارے پر-پر دادا حکیم محمد الٰہی بخش صاحب سے ہوا۔ آپ 1845 میں پیدا ہوئے اور آپ کو اللہ پاک نے علمِ حکمت سے نوازا۔ آپ نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ (خواجہ غریب نواز) کے دربارِ عالیہ سے باقاعدہ روحانی اور علمی فیض حاصل کیا۔

دربارِ عالیہ سے فیض یافتہ ہونے کی وجہ سے ان کی نیت میں خلوص اور ہاتھوں میں بے پناہ شفاء تھی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی حکمت اور خلقِ خدا کی خدمت میں گزار دی۔ ان کا ماننا تھا کہ دوا میں اثر تب ہی آتا ہے جب اسے بنانے والے کی نیت صاف ہو اور جڑی بوٹیاں بالکل خالص ہوں۔ وہ مریض کی نبض پکڑتے ہی بیماری کی اصل جڑ تک پہنچ جایا کرتے تھے، اور اسی دور سے ہمارے خاندان میں مجرب نسخوں کی بنیاد پڑی۔

ہمارے پر دادا: حکیم مولا بخش صاحب (1880)

حکیم محمد الٰہی بخش صاحب کے بعد اس علمی اور روحانی وراثت کو ان کے بیٹے اور ہمارے پر دادا حکیم مولا بخش صاحب نے سنبھالا۔ آپ کی پیدائش 1880 میں ہوئی تھی۔ آپ نے اپنے والدِ محترم کے سائے میں رہ کر حکمت کی باریکیاں سیکھیں اور خاندان کے نایاب نسخوں کو اگلی نسل کے لیے محفوظ کیا۔ حکیم مولا بخش صاحب اپنے دور میں نبض شناسی اور جڑی بوٹیوں کی پہچان میں کمال مہارت رکھتے تھے۔

ہمارے دادا: حکیم غلام محمد صاحب (1905)

حکیم مولا بخش صاحب کے بعد، اس خاندانی امانت کو ان کے بیٹے اور ہمارے دادا حکیم غلام محمد صاحب نے سنبھالا۔ آپ کی پیدائش 1905 میں ہوئی تھی۔ آپ نے اپنے والد اور دادا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے علمِ حکمت میں کمال حاصل کیا۔

تقسیمِ ہند (1947) اور پاکستان ہجرت

سن 1947 میں جب برِصغیر پاک و ہند کی تقسیم ہوئی اور پاکستان آزاد ہوا، تو ہمارے دادا حکیم غلام محمد صاحب نے بھارت کی ریاست راجستھان سے ہجرت کا کٹھن سفر طے کیا اور پاکستان تشریف لائے۔ آپ نے صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں "گلا چک 114" کو اپنا نیا مسکن بنایا اور یہاں دوبارہ مطب کا آغاز کر کے لوگوں کو شفاء بانٹنا شروع کی۔

سندھ دواخانہ کے بانی (Founder): حکیم سلیمان صاحب (1941 - 2004)

حکیم غلام محمد صاحب کے بعد یہ خاندانی امانت ان کے بیٹے اور ہمارے والدِ محترم حکیم سلیمان صاحب کے پاس آئی، جن کی پیدائش 1941 میں ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے والد کے بعد کچھ عرصہ اسی گاؤں (گلا چک 114) میں حکمت کی، اور پھر وہ سندھ چلے گئے۔

حکیم سلیمان صاحب ہی سندھ دواخانہ کے اصل بانی (Founder) ہیں۔ سندھ کی زمین پر انہوں نے اپنی آدھی زندگی گزار دی اور وہاں خالص جڑی بوٹیوں سے علاج کر کے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ اسی مناسبت اور یاد میں انہوں نے اس دواخانے کا نام "سندھ دواخانہ" رکھا۔ سندھ میں ایک طویل عرصہ خدمت کرنے کے بعد، انہوں نے ایک بار پھر ہجرت کی اور پنجاب کے مشہور شہر شیخوپورہ میں مستقل سکونت اختیار کی اور زندگی کا آخری حصہ یہیں گزارا۔

والد صاحب نے اپنی پوری زندگی اس فن کے لیے وقف کر دی اور بالاآخر 15 مئی 2004 کو اس فانی دنیا سے پردہ فرما گئے (اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے، آمین)۔

موجودہ دور: حکیم عرفان احمد صاحب (وراثت کے امین)

حکیم سلیمان صاحب کی وفات کے بعد، اب یہ صدیوں پرانی خاندانی حکمت اور سندھ دواخانہ کی ذمہ داری موجودہ دور کے ہائی کوالیفائیڈ حکیم عرفان احمد صاحب کے پاس ہے۔ آپ کی پیدائش 10 جون 1972 کو ہوئی۔

آپ نے خاندانی تجربے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ حکمت کالج سے مستند ڈگری حاصل کی، تاکہ بزرگوں کے آزمودہ نسخوں کے ساتھ جدید طبی اصولوں کو بھی اپنایا جا سکے۔ آج حکیم عرفان احمد صاحب اپنے والد، دادا اور پر-پر دادا کے اسی 180 سالہ پاکیزہ کام، مخلص مشن اور خالص علاج کو اس ڈیجیٹل بلاگ کے ذریعے آپ کے گھر تک پہنچا رہے ہیں۔

ہم پر کیوں بھروسہ کریں؟

  • صدیوں کا تجربہ: ہمارے نسخے کتابوں سے نقل کردہ نہیں، بلکہ 180 سالہ خاندانی وراثت کا نچوڑ ہیں۔

  • دربارِ عالیہ کی برکت: ہمارے کام کی بنیاد میں بزرگوں کی دعا اور خلوص شامل ہے۔


  • 100% خالص علاج:
    ہم صرف اور صرف قدرتی جڑی بوٹیوں اور دیسی طریقوں پر یقین رکھتے ہیں۔