طحال (تلی) کیا ہے اور اس کا ورم کیوں ہوتا ہے؟

سندھ دواخانہ کی طرف سے ہم آپ کے لیے لائے ہیں بالکل آسان الفاظ میں معلومات، تاکہ آپ اپنے جسم کے بارے میں جاننا سیکھیں اور آپ کو کچھ نیا سیکھنے کو ملے۔ آج ہم انسانی جسم کے ایک اہم عضو "طحال" (جسے عام زبان میں تلی کہا جاتا ہے) کے بارے میں بات کریں گے۔

طحال (تلی) کی اہمیت

طحال دراصل معدہ کا ایک خادم ہے اور یہ بائیں جانب پسلیوں کے نیچے واقع ایک چھوٹا سا عضو ہے۔ طبِ قدیم کے ماہر جالینوس کا قول ہے کہ طحال جتنا چھوٹا ہوگا، بدن اتنا ہی فربہ اور مضبوط ہوگا، اور جتنا طحال بڑا ہوگا، بدن اتنا ہی لاغر اور کمزور ہوگا۔ گویا اس کا بڑھ جانا صحت کے گھٹ جانے کے مترادف ہے۔

ورمِ طحال (تلی کا بڑھنا)

جب تلی اپنے نارمل سائز سے بڑھ جائے تو اسے "ورمِ طحال" کہا جاتا ہے۔ اس مرض کو مختلف ناموں سے پہچانا جاتا ہے:

  • مشہور نام: تلی بڑھنا

  • طبی نام: عظم الطحال

  • ویدک نام: پلیا

  • ڈاکٹری نام: انلارجمینٹ آف دی سپلین (Enlargement of the Spleen)

مرض کی کیفیت: جس شخص کو یہ مرض ہو جائے، اس کے لیے دنیا کے لطف ختم ہو جاتے ہیں؛ وہ نہ تو اچھی طرح کھا پی سکتا ہے اور نہ ہی چل پھر سکتا ہے۔

اسباب:

  • اکثر موسمی بخاروں کے بعد یا ٹھنڈا پانی پینے سے یہ مرض پیدا ہو جاتا ہے۔

  • بعض اوقات سوداوی (سخت) غذاؤں کا استعمال بھی اس کا سبب بنتا ہے۔

  • مثال کے طور پر، وہ لوگ جو ہمیشہ چاول کھاتے ہیں، ان میں یہ مرض بکثرت پایا جاتا ہے۔

علامات: کیسے پہچانیں؟

  • بائیں جانب پسلیوں کے نیچے ٹٹولنے سے ایک سخت ٹکڑا (سوجن) محسوس ہوتا ہے۔

  • بعض مریضوں میں یہ سوجن اتنی بڑھ جاتی ہے کہ پورا پیٹ ہی رک جاتا ہے۔

  • جلد کی رنگت پھیکی یا زرد پڑ جاتی ہے۔

  • ذرا سا چلنے پر ہی سانس پھولنے لگتا ہے (دم چڑھتا ہے)۔

  • تلی کی جگہ ٹٹولنے سے ایک خاص آواز محسوس ہوتی ہے، جبکہ تندرست آدمیوں میں ایسا کچھ محسوس نہیں ہوتا۔

سندھ دواخانہ کی مشاورت

ورمِ طحال ایک تکلیف دہ مرض ہے اور اسے نظر انداز کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز اس تکلیف میں مبتلا ہے تو بروقت علاج کروائیں۔

رابطہ برائے علاج و مشورہ:

  • پتہ: سندھ دواخانہ، محلہ احمد پورہ، چوک فرنیچر مارکیٹ، طاہر صدیقی اسٹریٹ، نزدیک شرقپور چوک سے قلعہ روڈ، شیخوپورہ۔

  • WhatsApp Number: 03023400023

  • Email: mhaseebjutt56@gmail.com